chilgoza urdu mai

Chilgoza Information

in Urdu

 

( Pine nuts) چلغوزہ کے فوائد 
سردی کا موسم اورچلغو زہ کے فوائد
چلغوزه صنوبر کے درخت کا پھل ہے جو خشک میوه جات میں شمار کیا جاتا ہے۔ گرم تر درجہ اول ہے اس کا مغز ایک تولہ سے زیادہ نہیں کھانا چاہیے۔ کسی بھی پھل کے کھانے کا اچھا طریقہ یہ ہے کہ مقرر مقدار میں روزانہ کھایا جائے۔ یہ طریقہ غلط ہے کہ ایک دن مقدار سے بہت زیادہ کھا لیا اور پھر کئی دن ویسے ہی گزار دیئے۔ ہمارے ملک میں رواج یہی ہے کہ مل گیا تو پیٹ بھر کر کھا لیا۔ ورنہ ویسے ہی رہے۔ مقدار سے زیادہ کھا جائےتو جسم حسب ضرور لے کر باقی کو خارج کر دیتا ہے۔

اجزاء

ایک کلو چلغوزہ میں 212گرام پروٹین۔ 223گرام کاربوہائیڈریٹس۔ 460گرام تیل ۔ نصف گرما چونا۔ 5گرام لوہا۔ چار گرام فاسفورس ہوتا ہے۔ اس میں وٹامن اے، بی اور ڈی پائے جاتے ہیں۔

عام استعمال

کثیر الغذا پھل ہے۔ بدن کو موٹا کرتا ہے۔ بھوک بڑھاتا ے۔ دل اور اعصاب کو طاقت دیتا ہے۔ سردی کے نقصانات سے بچاتا ہے۔

مخصوص طبی فوائد

بلغم کو جسم سے قطع کرتا ہے۔ بلغمی کھانسی کو مفید ہے۔ فالج، رعشہ، کمزوری ہ اور دمہ کے مریض کے لیے عمدہ غذا ہے۔ بعض دوسری دوائیوں کو ملا کر اسے تمام مقوی معجونوں میں شامل کیا جاتا ہے۔

پرہیز

کچا چلغوزہ نہیں کھانا چہایے۔ بھونا ہو اور تازہ چلغوزہ مفید ہے۔ پچھلے سال کا پڑا ہوا چلغوزہ اپنا اثر کھو بیٹھتا ہے۔ گرمیں میں یا جب سردی کا زور ٹوٹ چکا ہو اس کا کھانا گلے کو خراب کر دے گا۔

چلغوزہ مقوی اعصا ب ہے ۔ بھوک بڑھا تا ہے۔ لقوہ اور فالج میں اس کا مسلسل استعما ل مفیدہے۔ پرانی کھانسی میں مغز چلغوزہ رگڑ کر شہد میں ملا کر چٹانا مفید ہو تا ہے۔
مغز کھیرا اور مغز چلغوزہ ہم وزن استعمال کرنے سے بند پیشاب جا ری ہو تاہے ۔ 
مغز چلغو زہ، یر قان او ر در د گردہ میں بے حد مفید ہے ۔ 
اس کاکھا نا جسمانی گوشت کو مضبو ط کر تاہے ۔ رعشہ اور جوڑوں کے در د میں مغز چلغوزہصبح و شام ہمرا ہ پانی یا قہوہ یا چائے کے ساتھ استعمال کرنے سے فائدہ ہو تا ہے ۔
دل اور دماغ کو تقویت دیتا ہے ۔ سردیو ں میں اس کا استعمال زیا دہ ہو تاہے ۔ دمہ میں بھی مغزچلغوزہ کو شہد کے ہمراہ رگڑ کر چٹانا مفید ہو تاہے ۔
لیکن مریض کو چاولو ں سے پرہیز کروانا ضر و ر ی ہو تاہے ۔ گردہ کو طا قت دیتاہے ۔ 
سدے کھولتا ہے ۔ چلغوزہ دیر ہضم ہوتاہے ۔ اس لیے مقدار سے زیادہ کھا نے میں احتیاط ضروری ہے ۔
بلغمی مزاج والو ں کے لیے سردیو ں کا یہ ایک معتدل ٹانک ہے ۔
کھا نا کھانے کے بعد اس کا استعمال مفید ہوتا ہے ۔
مغز چلغوزہ دودھ کے ہمراہ کھا نے سے جسم موٹا ہوتا ہے ۔ گنٹھیا کے مر ض میں اس کا استعمال مفید ہے۔ 
خون کے فساد کو دور کر تا ہے ۔
فالج اور رعشہ میں مغز چلغو زہ ایک تولہ اور شہد چھ ماشہ ملا کر کھلانا بے حد مفید ہے ۔
چلغوزہ کے چھلکو ں پر روغن سا لگا ہوتا ہے۔ جو چھیلتے وقت مغز کے ساتھ لگ جا تا ہے ۔ اور ایسے مغز کھا نے سے معدے میں سوزش ہو جا تی ہے اور گلے کی خراش کا بھی احتمال ہو تاہے

دیامر میں چلغوزے کے درخت آنے والے چند سالوں میں اپنی اختتام تک پہنچ جائیں گے, اگر محکمہ فارسٹ متبادل پلانٹیشن کا بندوبست نہیں کرتا تو یہ ایک عظیم سانحہ ہوگا,
سنہ 2000 سے پہلے چلغوزہ مارکیٹ میں فروخت نہیں ہوتا تھا تب لوگ ضرورت کے مطابق پھل اتارتے باقی پھل تیار ہونے کے بعد خود
بخود نیچے گرجاتا اور قدرتی طور پر اس افزائش نسل ہوتی تھی پرانے درخت کی جگہ نئے درخت تیار ہوتے تھے,یوں سلسلہ جاری رہتا
مگر اب صورتحال یہ ہے کہ درخت کے اپر کوئی پھل باقی نہیں رہتا اور نرسری کا متبادل بندوبست بھی نہیں اور جو درخت ابھی پھل
دے رہے ہیں چند سالوں کے بعد بوڑھے ہوکر ناکارہ ہوجائیںگے اور رہی سہی کسر لوگ پھل اتارنے کے لیے درختوں کی شاخیں کاٹ کر پوری
کر رہے ہیں یوں اس قیمتی پھل کا مستقبل تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے 
حکومت کو متبادل بندوبست ہنگامی بنیادوں پر کرنے کی ضرورت ہے! 
ابوساجد,